لانڈھی کے حافظ ابوبکر اور تیسری جنگ عظیم

 *فضل بن فضل کے قلم سے۔۔۔*




*لانڈھی کے حافظ ابوبکر اور تیسری جنگ عظیم*🤭🤭


چند عرصہ پہلے بلبل لانڈھی اع ظم ط ارق نے ایک عالمی مقابلے میں شرکت کی تو ملک بھر میں ان کے نام کا خوب ڈنکا بجا۔ ساتھ میں ملک کے طول عرض میں ایک نئی بحث بھی چڑ گئی۔ ہر فرد اور ادارے نے کسی نہ کسی طور پر بلبل لانڈھی پر دست شفقت کا حق جتایا۔مختلف دورانیے کے اساتذہ بھی سامنے آئیں۔ کسی نےقاعدہ،کسی نے ناظرہ اور کسی نےحفظ پر اپنے استحقاق کا دعویٰ کیا کہ ہم نے ہی اع ظم ط ا رق کو پڑھایا اور آگے بڑھایا ہے۔ اس لئے یہ صرف ہمارا ہی تفخر ہے۔ خیر وہ معمہ اس لئے جلد حل ہوا کہ بیت السلام جیسا برانڈ اس کی پیٹھ پر تھا جس نے اردگرد کے سارے استحقاق اپنے اندر سمیٹ لیے۔ 

اب اسی لانڈھی کے ایک اور فرزند حافظ ابوبکر نے دنیا بھر میں تہلکہ مچایا۔ کیونکہ انتہائی کم عمری میں ہی صلاحیتوں کے وہ جوہر دکھائے جس سے اقوام عالم کے ٹاپ قراء بھی ششدر رہ گئے۔ صرف دس میں دو ملکوں (ایران، عراق) میں انعقاد پزیر عالمی مقابلہ جات میں دوسری اور پہلی پوزیشن حاصل کی۔ چونکہ دونوں ممالک میں میجورٹی اور حکومت اہل تشیع کی ہے۔ اس لئے ان کے حصار اور دہلیز میں خلیفہ بلافصل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہم نام چھوٹے سے بچے کی گونج نے سنی مسلمانوں کے دل جیت لیے۔ جہاں خلیفہ اول کا نام لینا جرم تصور کیا جاتا ہے وہاں اسی کے ہم نام کی دوسری اور پہلی پوزیشن نے ان کی ناپاک زبانوں پر غیر ارادی طور پر وہی نام جاری کیا۔مقابلہ جات اپنے نام کرنےکےبعد وہاں کے قومی چینلوں نے خوب پزیرائی دی جس سے حافظ ابوبکر سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔ 

ان کی شھرت اور مقبولیت کے بعد پورے پاکستان میں پھر سے ایک تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ ہر دوسرا فرد اس کے ساتھ کسی نہ کسی تعلق کو جتا کر فخر کررہا ہے۔ 

سب سے پہلے تو اساتذہ کی ایک طویل لسٹ سامنے آرہی ہے۔ جس میں قاعدہ، ناظرہ، حفظ، مشق، فن تجوید اور فن قرات سرفہرست ہے۔ ہر فرد کا دعویٰ یہی ہےکہ ابوبکر کو چمکانے والے ہم ہیں۔ 

کسی کا دعویٰ ہےکہ چونکہ قاعدہ میں نے پڑھایا تو کمال میرا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ ناظرہ قرآن کا مطلب قرآن کیطرف توجہ مبذول کرانا ہے سو وہ میں نے کیا اس لئے آج کے اعزاز میں بڑا حصہ دار میں ہوں۔ کسی کا ٹویٹ ہےکہ حفظ کی ترغیب تو میں نے دی تھی اس لئے سہرا میرے سر سجنا چاہئیے۔ کسی نے پوسٹ ڈالی ہے کہ فن قرات میں لانے والا میں ہوں اس لئے مجھے بھی توجہ دی جائے۔ کچھ میسج گردش میں ہے جس میں پنڈی سے کوئی فرد دعوے دار ہےکہ فن تلاوت کے تمام اسرار و رموز اور مقامات کی پہچان میں نے کرائی سو صلے کا حق دار بھی میں ہوں۔ ایک امام صاحب نے کہا کہ ابوبکر چونکہ میرا مقتدی تھا، ہر نماز میں ان کی کامیابی کی دعا میں نے کی۔ اس لئے آج کی تمام کامیابیاں میری دعاؤں کا ثمرہ ہے۔ 

مجھے اندیشہ ہے کہ روز افزوں بڑھتے دعوے داروں میں ابوبکر کے کان میں اذان دینے والا، گھٹی دینے والا، عقیقہ میں سر گنجا کرنے والا، پہلا سوٹ سلانے والا، تعوذ و تسمیہ سکھانے والا، ثناء اور درود یاد کرانے والا، دعائیں ازبر کرنے والا، مدرسے میں داخل کرانے اور داخلہ فارم سب سے پہلے پر کرنے والا منظر عام پر آکر آپس میں الجھ نہ جائیں۔ جس سے ملک بھر میں خانہ جنگی کا قوی اندیشہ ہے۔ حکومت وقت اس کی سیکیورٹی کا بھر پور بندوبست کریں تاکہ دعوے داروں کی آپس کی جنگ و جدل میں حافظ ابوبکر اور اس کا گھرانہ محفوظ رہے۔ 

ایک گزارش یہ بھی ہےکہ خود ابوبکر یا اس کے والد محترم قاری ثاقب صاحب ایک لسٹ سوشل میڈیا پر وائرل کریں جس میں ترتیب وار مذکورہ بالا افراد کی خدمات کا تذکرہ اور اقرار ہو تاکہ تنازعات اٹھنے سے پہلے ہی ختم ہوجائیں۔

یہ بھی ممکن ہے کہ ایران و عراق کے سنی اور شیعہ مسالک کے لوگ حافظ ابوبکر کی وجہ سے آپس میں الجھ نہ جائیں ورنہ تو یہ فساد افراد سے ریاست منتقل ہوجائےگا جس میں مختلف ممالک حصہ دار اور طرف دار بنیں گے جو کہ تیسری جنگ عظیم کی طرف پیش قدمی ہوگی۔ شیعہ و سنی فسادات سے ایران کے پڑوسی ملک افغان ستان بھی جنگ میں کھود پڑے گا۔ اسی دوران غزوہ ہند اور خراسان کے لشکروں کا ظہور بھی ممکن ہے۔

  اسرائیل بھی اس وقت حالت جنگ میں ہے جس کی وجہ سے وہ بھی کا دائرہ بڑھا کر جنگ عظیم کے بہانے ان ممالک کو سبق سکھائےگا جس نے ہمیشہ اس کی راہ میں روڑے اٹکانے کی ناپاک جسارت کی۔ ظلم کی بھٹی گرم ہوتے ہی تل ابیب کے مطلوبہ مقام پر دجال ظاہر ہوجائے گا اور اسی طرح ایک پاکستانی کی عالمی مقابلہ قرات میں جیت قیامت کی برپائی کا سبب بنے گی۔ 

سو حکومت وقت بھی حافظ ابوبکر کے تمام متعلقین، بیش قیمت اساتذہ اور جن جن اداروں سے اس نے علم کشیدا ہے اس کا مکمل تعارف جاری کرکے ان کو ستارہ امتیاز سے نوازے۔ تاکہ دعوے دار آپس میں الجھنے سے گریزاں رہیں۔ بصورت دیگر قیامت کی برپائی کو روکنا ہرحال میں ناممکن ہوگا۔


نوٹ:.. مفتی منیر شاکر کے تراویح، رمضان اور صلوہ تسبیح کے متعلق ڈھکوسلے سن کر سوچا کہ میں بھی مشھور ہوجاوں سو یہی کہانی لکھ ڈالی۔

ویسے بھی ابو لبابہ شاہ منصور صاحب کی "دجالی کتاب" پھر سے تازہ تازہ پڑھی اس لئے اب تو ہر موقع پر دجال ہی دجال نظر آرہا ہے۔ امید ہے چند دنوں میں میری وال پر دجال سے جڑے اور بھی کئی واقعات اپ کو پڑھنے کےلئے ملیں گے۔🤣🤣🤣

احباب توجہ فرمائیں! حافظ ابوبکر کے والد محترم نے اس کے اساتذہ کی لسٹ جاری کردی ہے۔ کومنٹ میں ملاحظہ فرمائیں۔👇👇

معاشرتیات#

Comments

Popular posts from this blog

Cristiano Ronaldo Opens Up in Candid Interview with Piers Morgan

Underwater Fiber Optic Cable Cut Disrupts Internet Distribution in Pakistan

The Austrian swimming trials for the Paris 2024