خود دار بنیں یا خود کفیل

 فضل بن فضل کے قلم سے۔۔۔



خود دار بنیں یا خود کفیل


ساڑھے تین دہائی کی عمر میں جس بات کا مجھے قدم قدم پر احساس رہا وہ یہ ہےکہ اگر آپ ہر معاملے میں خود کفیل نہیں ہیں تو پھر خود داری کو اپنا اوڑھنا بچھونا ضرور بنائیں ورنہ خود کفیلی کے حصول میں بالکل بھی دیر نہ کریں۔ کیونکہ نفسا نفسی کے اس عھد میں خودداری اور خودکفیلی دونوں سے بڑھ کر کوئی نعمت اور حسین احساس نہیں۔ 

اگر عافیت کی زندگی جینی ہے جہاں آپ ہر سو شانت و پرسکون ہوں، جس میں لوگوں کے ترش رویے اور تلخ لہجے بالکل بھی شامل نہ ہوں، جن راہوں میں طعنہ زنی اور احسان جتانے کا کوئی تصور نہ ہو، کسی موڑ پر بھی تحقیر و اہانت گری کی آمیزش بھی نہ ہو تو پھر اگر آپ مفلس ہیں، ناتواں و کمزور ہیں اور ضروریات و وسائل کی پہنچ سے کوسوں دور ہیں تو خود داری اپنا کر اپنے کو تمام غموں سے ہلکان کریں۔ اپنے ارمانوں کو ٹھنڈک فراہم کریں۔ اگرچہ خود داری آپ کی خودی کا خون چوستی ہے۔ آپ کے اندر کے احساس کو بری طرح زخمی کرتی ہے، غیرت و حمیت کے ساتھ خون ریز جنگ میں ہمیشہ آپ کو ہی تکلیف ملتی ہے  لیکن زندگی کا حصہ بننے والے یہ سب گھاؤ مرور وقت کے ساتھ خود مندمل ہوجاتے ہیں۔

اگر آپ زندگی کے اس ڈگر پر ہیں کہ وسائل و اسباب کو اپنے آنگن میں سما سکتےہیں تو پھر اس میں بالکل بھی دیر نہ کریں۔ اگر اس کےلئے مالی و جانی قربانیاں درکار ہیں تو دریغ نہ کریں بلکہ خودکفیلی کا جامہ پہن کر اپنے اندر استغناء پیدا کریں اور لوگوں کی طرف احتیاج کو فی الفور سمیٹے۔ ورنہ آپ کی شخصیت پر لگے داغ کئی دہائیوں تک بھی مدھم نہیں ہوں گے۔ اس کی روشنائی لوگوں کے ذہنوں میں ہمیشہ تازہ رہےگی۔ آس پاس بسنے والے بےحس لوگ آپ کے احتجاج کو ذلت و حقارت میں لپیٹ کر اپ کی عزت کو ہر گام داؤ پر لگائیں گے۔ اس لئے دیر بالکل نہ کریں کیونکہ خودکفیلی کی زندگی شاہانہ زندگی ہے جس میں آپ مست اور خودمختار رہتے ہیں۔

سو خود دار بنیں یا خود کفیل

معاشرتیات#

Comments

Popular posts from this blog

Cristiano Ronaldo Opens Up in Candid Interview with Piers Morgan

Underwater Fiber Optic Cable Cut Disrupts Internet Distribution in Pakistan

The Austrian swimming trials for the Paris 2024